کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ کوئی شخص ذرا سی بات پر رونے لگتا ہے، کسی کو تھوڑی سی فکر ہو تو اس کے پیٹ میں درد اٹھنے لگتا ہے، اور کوئی شخص بڑے سے بڑے صدمے کو بھی چہرے پر مسکراہٹ رکھتے ہوئے برداشت کر لیتا ہے؟
یہ فرق صرف شخصیت کا نہیں، بلکہ اس بات کا ہے کہ ہمارا جسم جذبات پر کیسے ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ جسمانی جذبات (Somatic Emotions) ایک حقیقت ہے — کچھ لوگ خوشی، غم، غصہ یا خوف کو اپنی جلد، پٹھوں اور اعصاب میں محسوس کرتے ہیں، جبکہ دوسرے انہی جذبات کو صرف دماغی سطح پر تجربہ کرتے ہیں۔
یہ مضمون آپ کو بتائے گا کہ آخر یہ فرق کیوں ہے، اس کے پیچھے کیا سائنس ہے، اور اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو جذبات کو شدت سے محسوس کرتے ہیں تو کیسے اس کیفیت کو سنبھال سکتے ہیں۔
جذبات کا جسمانی اظہار: کیا فرق ہے؟
جب ہم کسی جذبات کا تجربہ کرتے ہیں تو ہمارا جسم خودکار طور پر کیمیکلز اور ہارمونز خارج کرتا ہے۔ لیکن ہر شخص کا نظامِ عصبی (Nervous System) مختلف طریقے سے کام کرتا ہے۔
کچھ لوگوں میں جذباتی محرک (Emotional Trigger) اور جسمانی ردِعمل (Physical Response) کے درمیان راستہ بہت چھوٹا اور تیز ہوتا ہے۔ یہ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ:
- شرمندگی سے چہرہ جلنے لگتا ہے۔
- خوف سے کپکپاہٹ ہوتی ہے۔
- غصے سے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔
- دکھ سے سینے میں بھاری پن یا گلے میں گانٹھ محسوس ہوتی ہے۔
دوسری طرف، کچھ لوگوں میں یہ راستہ زیادہ لمبا اور سست ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ جذبات کو جسمانی طور پر کم محسوس کرتے ہیں۔
انٹرسیپشن: جسم کے اندر کی سننے کی صلاحیت
ماہرینِ نفسیات نے اس فرق کی ایک اہم وجہ "انٹرسیپشن” (Interoception) کو قرار دیا ہے۔ انٹرسیپشن ایک ایسی صلاحیت ہے جس سے ہم اپنے جسم کے اندر ہونے والی کیفیات کو محسوس کرتے ہیں — جیسے بھوک، پیاس، دل کی دھڑکن، سانس لینے کی رفتار، اور درجہِ حرارت۔
جو لوگ جذبات کو جسم میں زیادہ محسوس کرتے ہیں، ان کی انٹرسیپشن کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ اپنے جسم کے اندر معمولی سے معمولی تبدیلی کو بھی پڑھ لیتے ہیں۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جن لوگوں کی انٹرسیپشن زیادہ ہوتی ہے، وہ اپنے جذبات کو زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف یہ کہ "میں پریشان ہوں” سوچتے ہیں، بلکہ وہ اپنے پیٹ کے گڑھے میں اس پریشانی کے اثرات کو بھی محسوس کرتے ہیں【1†L1-L4】۔
اعصابی نظام کا فرق: لڑو یا بھاگو
جب ہمیں کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے یا کوئی شدید جذباتی تجربہ ہوتا ہے تو ہمارا ہمدرد اعصابی نظام (Sympathetic Nervous System) فعال ہو جاتا ہے۔ یہ وہی نظام ہے جو "لڑو یا بھاگو” (Fight or Flight) ردِعمل کو کنٹرول کرتا ہے۔
لیکن ہر شخص کے اعصابی نظام کی حساسیت مختلف ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کا ہمدرد اعصابی نظام بہت تیزی سے اور شدت سے ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ ان میں:
- تناؤ کا ہارمون کورٹیسول (Cortisol) زیادہ مقدار میں خارج ہوتا ہے۔
- دل کی دھڑکن تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔
- پٹھوں میں کھنچاؤ آ جاتا ہے۔
- پسینہ آنے لگتا ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو معمولی سی بات پر بھی "جسم میں جذبات” محسوس کرتے ہیں، کیونکہ ان کا اعصابی نظام ہر جذباتی محرک کو بڑے پیمانے پر ہینڈل کرتا ہے۔
آئینہ دار نیوران (Mirror Neurons): دوسروں کے جذبات کو محسوس کرنا
کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ جب کوئی آپ کے سامنے درد میں چلاتا ہے تو آپ کو بھی ہلکا سا درد ہونے لگتا ہے؟ اس کے پیچھے آئینہ دار نیوران (Mirror Neurons) ہوتے ہیں۔
یہ دماغی خلیے ہیں جو دوسروں کے اعمال اور جذبات کو دیکھ کر خود وہی تجربہ کرنے لگتے ہیں۔ کچھ لوگوں میں یہ نیوران زیادہ فعال ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ دوسروں کے دکھ، درد یا خوشی کو اپنے جسم میں محسوس کرتے ہیں۔
ایسے لوگ اکثر کہتے ہیں:
- "مجھے اس کی تکلیف دیکھ کر دل میں چبھن ہو رہی ہے۔”
- "اس کی مسکراہٹ دیکھ کر میرا دل خوش ہو گیا۔”
- "وہ رو رہا تھا تو میری آنکھیں بھی بھر آئیں۔”
یہ آئینہ دار نیوران کی زیادہ سرگرمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
حساسیت کا فرق: ہائی سنسیٹیوٹی (High Sensitivity)
ماہرِ نفسیات ایلین آرون (Elaine Aron) نے "ہائی سنسیٹیوٹی پرسن” (Highly Sensitive Person — HSP) کا تصور دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق تقریباً 15 سے 20 فیصد لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ حساس ہوتے ہیں۔
HSP افراد کی خصوصیات میں شامل ہیں:
- وہ دوسروں کے جذبات کو گہرائی سے سمجھتے ہیں۔
- وہ شور، روشنی اور بدبو سے جلدی متاثر ہوتے ہیں۔
- وہ اپنے جذبات کو جسم میں شدت سے محسوس کرتے ہیں۔
- وہ دوسروں کی تکلیف دیکھ کر خود بھی پریشان ہو جاتے ہیں۔
یہ لوگ "جسمانی جذبات” کا تجربہ دوسروں سے زیادہ کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ان میں ڈپریشن اور Anxiety کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے اگر وہ اپنی حساسیت کو سنبھالنا نہ جانیں【2†L5-L8】۔
کیا جذبات کو جسم میں محسوس کرنا ایک مسئلہ ہے؟
بالکل نہیں۔ یہ کوئی بیماری یا مسئلہ نہیں ہے — یہ ایک ذاتی خصوصیت ہے، بالکل اسی طرح جیسے کسی کی آنکھوں کا رنگ یا قد۔
لیکن کچھ معاملات میں یہ مسئلہ بن سکتا ہے:
- اگر جذبات اتنے شدید ہوں کہ آپ روزمرہ کے کام نہ کر سکیں۔
- اگر ہر چھوٹی سی بات پر آپ کا جسم "لڑو یا بھاگو” موڈ میں چلا جائے۔
- اگر آپ دائمی تھکاوٹ، پٹھوں کے درد، یا ہاضمے کے مسائل میں مبتلا ہوں جو جذباتی تناؤ سے بڑھتے ہیں۔
ایسی صورت میں یہ سومٹائزیشن ڈس آرڈر (Somatization Disorder) کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جہاں جذباتی مسائل جسمانی علامات میں بدل جاتے ہیں۔
کیا جذبات کو کم محسوس کرنے والے لوگ "کم حساس” ہوتے ہیں؟
نہیں، ایسا بھی نہیں ہے۔ جو لوگ جذبات کو جسم میں کم محسوس کرتے ہیں، ان کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جذبات رکھتے ہی نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ان کا دماغ اور جسم جذبات پر مختلف طریقے سے ردِعمل ظاہر کرتے ہیں۔
کچھ لوگ جذبات کو دماغی سطح پر پروسیس کرتے ہیں اور پھر وہاں سے ان کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگوں میں یہ عمل جسمانی سطح پر زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ دونوں طریقے نارمل ہیں۔
کیا اس کیفیت کو بدلا جا سکتا ہے؟
جی ہاں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے جذبات آپ کے جسم پر کم اثر ڈالیں تو کچھ طریقے ہیں:
1. مائنڈفلنس اور مراقبہ (Mindfulness and Meditation)
مائنڈفلنس آپ کو سکھاتی ہے کہ آپ اپنے جذبات کو بغیر فیصلہ کیے دیکھیں۔ اس سے آپ کا دماغ سیکھتا ہے کہ ہر جذباتی محرک پر جسمانی ردِعمل ظاہر کرنا ضروری نہیں ہے۔
2. سانس لینے کی مشقیں (Breathing Exercises)
جب آپ غصہ یا خوف محسوس کریں تو آہستہ اور گہرے سانس لینے کی مشق کریں۔ یہ آپ کے ہمدرد اعصابی نظام کو پرسکون کرتا ہے اور جسمانی علامات کو کم کرتا ہے۔
3. جرنلنگ (Journaling)
اپنے جذبات کو کاغذ پر لکھیں۔ اس سے آپ کا دماغ ان جذبات کو پروسیس کرتا ہے اور جسم پر ان کا اثر کم ہو جاتا ہے۔
4. پیشہ ورانہ مدد (Professional Help)
اگر جذبات آپ کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں تو کسی معالج سے ملیں۔ سنجشتھاناتمک سلوک تھراپی (CBT) اور سومیٹک تجربہ (Somatic Experiencing) جیسی تھراپیز خاص طور پر مفید ہیں۔
اپنی حساسیت کو طاقت بنائیں
جو لوگ جذبات کو جسم میں محسوس کرتے ہیں، ان کے لیے یہ کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک طاقت ہے:
- وہ دوسروں کے جذبات کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔
- وہ بہتر دوست، شریکِ حیات اور والدین بن سکتے ہیں۔
- وہ آرٹ، موسیقی اور تخلیقی شعبوں میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔
یاد رکھیں، جذبات کو محسوس کرنا انسان ہونے کی علامت ہے — اور انہیں جسم میں محسوس کرنا اس کا ایک خوبصورت پہلو ہے۔
❓ اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کیا جذبات کو جسم میں محسوس کرنا کسی بیماری کی علامت ہے؟
جواب: نہیں، یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک ذاتی خصوصیت ہے۔ تاہم اگر یہ آپ کی زندگی میں رکاوٹ بن رہا ہو تو مدد لینی چاہیے۔
سوال: کیا بچوں میں یہ خصوصیت زیادہ ہوتی ہے؟
جواب: جی ہاں، بچوں کا اعصابی نظام ابھی پوری طرح نشوونما نہیں پاتا، اس لیے وہ جذبات کو زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ یہ کم ہو سکتا ہے۔
سوال: کیا جذبات کو جسم میں محسوس کرنے والے لوگ زیادہ ہمدرد ہوتے ہیں؟
جواب: عام طور پر جی ہاں، کیونکہ وہ دوسروں کے جذبات کو اپنے جسم میں محسوس کرتے ہیں، جس سے ہمدردی بڑھتی ہے۔





